یوں تو دسمبر اس اعتبار سے خاصی شہرت رکھتا ہے کہ اس میں درختوں سے پتے جھڑ
جاتے ہیں سورج اپنی روشنی سے حرارت کھینچ لیتی ہے، دھوپ میں مسرت بخش نرمی اور
مدھم مدھم حرارت ہوتی ہے، شمالی علاقہ جات میں برف باری شروع ہوجاتی ہے، ہر طرف
روئی جیسی سفید دُھند چھائی رہتی ہے، کباب کے ہوٹل آباد ہوجاتے ہیں چائے کے ڈھابوں
پر رش بڑھ جاتا ہے، گرم گرم سردی پڑتی ہے، منہ سے باتیں کم اور بھڑاس زیادہ نکلتی
ہے.
اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ دسمبر کا مہینہ قدرت کے ثناخوانوں میں ایک
منفرد مقام رکھتا ہے یہ مہینہ اگرچہ خزاں کے عروج کا ہوتا ہے خزاں کو غم سے تعبیر
کیا جاتا ہے لیکن خزاں ہی کے مختلف رنگ اسے انوکھی قسم کی رومانویت بخشتا ہے.
ماہ دسمبر ہماری تاریخ میں اتنا اہم اور یادگار مقام رکھتا ہے کہ بھلائے
نہیں بھولتا، ہمارے لئے یہ مہینہ غموں اور دکھوں کے واقعات کا مہینہ ہے یہ مہینہ منحوس
نہیں ہے لیکن اس میں اتنے ہولناک واقعات ضرور پیش آئے ہیں کہ اب اس سے خوف آنے لگا
ہے.
برصغیر کے مسلمانوں کا پاکستان کے نام سے اپنے لئے ایک علیحدہ ملک کا حاصل
کرنا خوشی کا جتنا بڑا واقعہ تھا اتنا بڑا ہی غم کا واقعہ دسمبر کے مہینے میں
پاکستان کا دولخت ہوجانا تھا، ہماری نوے ہزار مسلح فوج ہندوستانی فوج کے آگے
سرینڈر کرگئی، دنیا کی عسکری تاریخ میں یہ سب سے بڑا واقعہ ہے، اسی طرح سقوط ڈھاکہ
کی صورت میں ڈھاکہ میں انسانی بحران پیدا ہوگیا.
اسی طرح دسمبر ہی میں آرمی پبلک سکول پشاور کا خونین واقعہ پیش آیا تھا جس
میں قوم کے ۱۵۰ سے اوپر بچے ننھے منھے فرشتے خون میں نہلائے گئے تھے، اس
واقعہ کے زخم ابھی ہرے تھے کہ آج پشاور ہی کے زرعی یونیورسٹی میں دہشت گردوں نے
آرمی پبلک سکول طرز پر دہشت گرد حملہ کرنے کی کوشش کی، دشمن نے قوم کو اے پی ایس
سانحے جیسے دوسرے سانحے اور دسمبر کو خونین بنانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ہمارے
بہادر پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی کامیاب کاروائی سے حملہ ناکام ہوگیاـــ
سوشل میڈیا پر پشاور کا حملہ زیر بحث ہے زیادہ تر لوگ پختونخواہ پولیس کی
بروقت کاروائی کو سراہ ہے ہیں یہاں تک کہ تحریک انصاف کے سب سے بڑے ناقد حکومتی جماعت
مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے خواجہ سعد رفیق نے بھی پختونخواہ پولیس کی کارکردگی
کو سراہا، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے مطابق اپریشن ناکام اس لئے ہوا کہ اس
میں گیارہ جانیں ضائع ہوگئی ہیں.
ایک اعتبار سے وہ بھی درست ہیں لیکن ان کی پختونخواہ پولیس اور سیکورٹی
ایجنسیوں پر تنقید خالص دیانتداری پر مبنی نہیں ہے وہ ایک طرح سے یہ ثابت کرنا چاہ
رہے ہیں کہ پختونخواہ حکومتی جماعت تحریک انصاف اور عمران خان پختونخواہ پولیس کے
ادارے میں جس تبدیلی کا دعوی کر رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں، ہم یہ بھی کہہ
سکتے ہیں کہ آج کی کاروائی پر پولیس کی کارکردگی کو نہ سراہنا ایسا ہے کہ دراصل یہ
لوگ پختونخواہ پولیس کو آج بھی تسکین قلب کی خاطر ناکام دیکھنا چاہتے ہیں،ــــ
جنگ میں بڑی کامیابی دشمن کا حملہ پسپا کرنا اور دشمن کے نقصان پہنچانے کی
صلاحیت کو کم سے کم کرنا ہوتا ہے، جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ایسے ممالک میں
گھرا ہوا ہے جو سال کے بارہ مہینے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے میں
مصروف رہتے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں غیراعلانیہ جنگ کا سامنا ہے.
دنیا میں
دہشتگردی اب ایک انڈسٹری کے طور پر فروغ پا رہی ہے، اس لئے وہ ممالک جو ہر لحاظ سے
مثالی ہے دہشتگردی کی لہر سے محفوظ نہیں ہیں، ہمیں اب بھی متحد ہوکر اپنے اداروں
کے پیچھے مضبوط کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑنی ہے، آج ہمارے سیکورٹی کے
اداروں کو بڑی کامیابی ملی ہے ہم اے پی ایس کے طرز پر سانحے سے بچ گئے ہیں اس لئے
ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ پولیس کی کاروائی بروقت
اور بہتر رہی.

No comments:
Post a Comment