ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر
تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثییت رکھتا ہے کہ 1974
میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیا جس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور
مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر
شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے
مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب
قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے
کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے
سب لوگ حیران اور ورطہ حیرت کا شکار ہوگئے. تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال
گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا
تو پلٹ کر پیچھے گرا اور نیم بےہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر
دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال
گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو
رکھ کے گیا ہے اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے
متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں۔
زندگی مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور
بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پر جس شخص
نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی
شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے۔
سلطان محمود صیحح معنوں میں دین
اسلام کا محب اور محافظ تھا۔ بلند کردار بلند حوصلہ شخص تھا۔ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم سے والہانہ محبت رکھتا تھا۔ ایک دفعہ سلطان نے اپنے
غلام ایاز کے بیٹے کو "او ایاز کے بیٹے مجھے وضو والا لوٹا پکڑا"۔کہہ کر
بلایا۔ تو ایاز (جو کہ سلطان سے ایک سچے مرید کی طرح محبت کرتا تھا) فورا
حاضر ہوا اور کہنے لگا حضور کیا مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے جو آج آپ نے
میرے بیٹے کو نام سے نہیں پکارا۔ تو سلطان نے کہا نہیں ایسا نہیں۔ چونکہ
تمہارے بیٹے کے نام میں "محمد" آتا ہے اور میں اس وقت بے وضو تھا۔ اس لئے
میں نے تمہارے بیٹے کو نام سے نہیں پکارا۔ تو آپ اندازہ لگا لیں کہ سلطان
بے وضو لفظ محمد بھی نہیں لیتا تھا۔ تو اس سلطان کو محمد عربی صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی ذات سے کس قدر محبت ہوگی۔
سلطان محمود غزنوی نے
دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر
اثر و رسوخ رکھنے والا بادشاہ تھا۔ جو کہ جہاد کا دلدادا' شجاع اور خدا ترس
بادشاہ تھا۔محمود غزنوی بہت پرعزم اور باہمت بادشاہ تھا۔ اس نے ہندوستان
پر سترہ حملے کیئے اور ہر دفعہ کامیاب لوٹا۔
اس نے سومنات کا ناقابل تسخیر مندر توڑا۔ اس پر ہندؤؤں کا یقین تھا کہ یہ دیوتاؤں کی رہائش ہے اور کوئی انسان بھی اس کو تسخیر نہیں کر سکتا۔ اس لئے محمود غزنوی کو بت شکن بھی کہتے تھے۔ ہماری تاریخی کتب میں بھی ایسا ہی لکھا ہوا۔
اس نے سومنات کا ناقابل تسخیر مندر توڑا۔ اس پر ہندؤؤں کا یقین تھا کہ یہ دیوتاؤں کی رہائش ہے اور کوئی انسان بھی اس کو تسخیر نہیں کر سکتا۔ اس لئے محمود غزنوی کو بت شکن بھی کہتے تھے۔ ہماری تاریخی کتب میں بھی ایسا ہی لکھا ہوا۔
(تاریخ
کے طالب علم ہونے کی حیثیت سےمجھے یہ سومنات والا واقعہ نائن الیون اور
ممبئی حملے کی طرح ہی مسلمانوں کے خلاف پراپوگنڈا کے سوا کچھ نہیں لگتا۔
کہ سلطان نے شہرسومنات میں کسی بہت بڑے مندر کوتوڑا تھا۔ اور وہاں سے سونا'
جواہرات ' ہیرے موتی اور مندر کے قیمتی دروازے غزنی لوٹ کر لے گیا تھا۔ یہ
کہانی تقریبا سو سال پہلے انگریزوں نے صرف اس لئے گھڑی تھی تاکہ افغانستان
میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی مدد لی جاسکی۔ انگریز کا اس بحث سے ایک ہی
مقصد تھا کہ ہندو قوم کو افغانستان میں ہونے والی جنگ میں ساتھ ملایا جائے
اور پورے ہندوستان پر یہ ثابت کیا جائے کہ انگریز کا افغانستان پر کس قدر
کنٹرول ہے۔ یوں ایک مقامی فوجی بھرتی کے ساتھ افغانستان پر حملہ بھی کیا
گیا۔غزنی میں موجود دروازوں کو اکھاڑا گیا جس کے بارے میں انگریزوں نے
مشہور کررکھا تھا کہ یہ سومنات مندر کے دروازے تھے۔ جب انھیں ہندوستان لایا
گیا تو ان پر کنندہ آیاتِ قرآنی نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ ان کا سومنات تو
دور کی بات ہندو مذہب سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ یہ دروازے آج بھی آگرہ کے
قلعے کے اسٹور روم میں پڑے ہوئے ہیں۔
بت شکن کا لقب بھی انگریز نے ہی سلطان کو دیا تھا۔ اس کے دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں ہندووں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا۔ اور دوسرا ہندووں کو انگریز فوج میں بھرتی کرکے افغانستان پر چڑھائی کروانا۔ کیونکہ مسلمان کبھی بھی افغانستان کے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کو تیار نہ تھے۔ اسی لئے محمود غزنوی کی سومنات کے عظیم مندر کی تباہی، اس کے بہت بڑے بت کو توڑنا، اس کے اندر سے سونا اور دولت کا نکالنا اور اس دولت کو لوٹ کر غزنی لے جانا، یہ ساری کہانی انگریز دور میں تراشی گئی۔ بالکل ایسے ہی جیسے دو جہاز 9 ستمبر کے واقع میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں دے مارے اور اس کا ذمہ دار صرف مسلمانوں کو ہی آج تک ٹھہرایا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ خود امریکی حکومت نے کروائے تھے تاکہ دنیا کو ساتھ ملا کر افغانستان پر حملے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ اس کی حقیقت جاننے کے لئے آپ LOOSE CHANGE ڈاکیومنٹری ضرور دیکھیں۔ جو کہ اردو میں کھوٹے سکے کے نام سے مترجم بھی ہوئی ہے۔
بت شکن کا لقب بھی انگریز نے ہی سلطان کو دیا تھا۔ اس کے دو بڑے مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں ہندووں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑوانا۔ اور دوسرا ہندووں کو انگریز فوج میں بھرتی کرکے افغانستان پر چڑھائی کروانا۔ کیونکہ مسلمان کبھی بھی افغانستان کے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کو تیار نہ تھے۔ اسی لئے محمود غزنوی کی سومنات کے عظیم مندر کی تباہی، اس کے بہت بڑے بت کو توڑنا، اس کے اندر سے سونا اور دولت کا نکالنا اور اس دولت کو لوٹ کر غزنی لے جانا، یہ ساری کہانی انگریز دور میں تراشی گئی۔ بالکل ایسے ہی جیسے دو جہاز 9 ستمبر کے واقع میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں دے مارے اور اس کا ذمہ دار صرف مسلمانوں کو ہی آج تک ٹھہرایا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ خود امریکی حکومت نے کروائے تھے تاکہ دنیا کو ساتھ ملا کر افغانستان پر حملے کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ اس کی حقیقت جاننے کے لئے آپ LOOSE CHANGE ڈاکیومنٹری ضرور دیکھیں۔ جو کہ اردو میں کھوٹے سکے کے نام سے مترجم بھی ہوئی ہے۔
انگریز دور میں ہی محمود غزنوی کو بت شکن کا
لقب دے کر مسلمانوں کے ہاں اس کے کردار کی عظمت اور ہندوؤں کے ہاں کردار
کشی کی گئی۔ تاکہ زیادہ زیادہ ہندو محمود غزنوی اور مسلمانوں کے خلاف ہوں
کہ مسلمان ہمیشہ اقتدار میں آکر لوٹ مار کرکے اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں۔ جیسے
آج بھی بہت سے سندھیوں کو بھی یہ ہی بتایا جاتا ہے کہ محمد بن قاسم سندھ پر
حملہ آور ہوکر یہاں کی عورتوں' سونے چاندی ہیرے جواہرات لوٹ کر واپس عرب
چلا گیا تھا۔
بہرحال سلطان نے سومنات شہر پر حملہ ضرور کیاتھا۔ لیکن
وہاں پر کوئی بڑا مندر موجود ہی نہیں تھا۔اگر اس بارے میں مزید پڑھنا
چاہیں تو انڈیا کی رومیلاتھاپر کی تحقیقی کتاب ہسٹری آف انڈیا میں پڑھیں۔
اس کتاب میں رومیلا نے ایک باب میں اس پر کافی تفصیلی بحث کی ہے۔ اور دلائل
سے ثابت کیا ہے کہ سلطان نے یہاں کسی مندر کو نہیں توڑا تھا۔ اور نہ ہی
کوئی لوٹ مار کی۔
اللہ کی بے شمار رحمتیں سلطان پر نازل ہوں۔

No comments:
Post a Comment