Wednesday, 24 May 2017

The Shadow Warriors of Pakistan Defence

ہندوستانی خفیہ ایجنسی میں "بلوچ علیحدگی پسندوں" کے روپ میں ہماری آئی ایس آئی کے پورے 50 بندے انڈیا میں موجود ان کے ہیڈکوارٹر سے ٹرینگ لیکے آئے ھے، ٹرینگ کے بعد جیسے ہی وہ سب تخریب کار کاروائیوں کے لیے پاکستان بھیجے گئے تو وہ دن اور آج کا دن ہندوستانی را کو وہ بندے نظر ہی نہیں آرہے :D :D ھندو مشرک حیران و پریشان ہوگئے ہیں کہ آخر وہ بندے تھے کون اور گئے کہاں، زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا :D را کے گدھوں کو اتنا بھی پتا نہیں چل سکا کہ جن  بلوچ اور سندھی علیحدگی پسندوں کے روپ میں آئے ہوئے بندوں کو وہ ٹرینگ کے لیے بھارت بلاتے ہیں وہ دراصل پاکستانی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ !
پاکستانیوں فخر کرو اپنی ایجنسیوں پر، ہمارے ایجنسی کوئی معمولی ایجنسی نہیں ہے، دنیا کی سپر پاور امریکہ بھی مانتا ہے کہ آئی ایس آئی نمبر ایک خفیہ ایجنسی ہے جبکہ ہمارے سب سے بڑے جانی دشمن انڈیا کے سابق آرمی اور انٹیلیجنس چیفس بھی خود اعتراف کر چکے ہیں کہ واقعی پاکستانی خفیہ ایجنسی "آئی ایس آئی" دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی ہے جس کا آج تک ایک بھی ایجنٹ پکڑا نہیں جاسکا۔
وہ گمنام سپاہی کون ہوتے ہیں؟ کہان رہتے ہیں؟ کیا کام کرتے ہیں؟ یہ دنیا کا کوئی بندہ نہ آج تک جان سکا ہے اور نہ ہی جان سکے گا، بس خاموشی سے سب کام کیا جاتا ہے، دنیا کی ہر فیلڈ میں ایسے گمنام سپاہی موجود ہوتے ہین لیکن ان کا کسی کو پتا نہیں چل سکتا۔ اگر ایک ہی جگہ پر دو آئی ایس آئی کے ایجنٹ کام کریں تو ان دونوں کو بھی پتا نہیں ہوتا کہ دوسرا بندہ بھی ایجنٹ ہے، پاکستانی ایجنسی اتنی خفیہ اور سخت ترین ہے کہ وہ اپنے آرمی چیف کی بھی خفیہ نگرانی کرتی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان، بیوروکریٹ یا میڈیا کا بندہ اس نگرانی سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بس سب کام خاموشی سے کیے جاتے ہیں۔
ہماری صرف ایجنسی ہی نمبر ون نہیں بلکہ آرمی بھی نمبر ون ہے، سابق امریکی صدر خود اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ان کے پاس پاکستان آرمی ہو تو وہ ساری دنیا کو فتح کرسکتے ہیں، دنیا کے ہر بڑے سے بڑے فوجی مقابلوں میں ہمارے آرمی کے جوان ہی جیتتے ہیں۔ سردوں میں برف پر گھنٹوں لیٹ کر اوپر سے ٹھنڈہ پانی ڈالنا ہو یا جون جولائی کی سخت گرمیوں میں آگ پر چل کر فوجی مشقیں کرنا ہو؟ ہر جگہ ہمارے ایس ایس جی کمانڈوز ہی نمبر ایک رہے ہیں، الحمداللہ
لیکن ہم پاکستانی بہت ناشکرے ہیں، جو فوجی اپنی جان کے نظرانے دیکر ہمارے ملک کو امن بخشتے ہیں ہم انہیں ہی اپنے علاقوں کے حرام خور سیاستدانوں کے کہنے پر گالیاں دیتے نہیں تھکتے، ہر مسئلے کی جڑ فوج کو قرار دیکر سیاستدانوں کے حق میں قصیدے پڑھتے رہتے ہیں۔ جو فوجی اپنی اولادوں کو بھی سرحدوں پر بندوق کے ساتھ بھیج دیتے ہیں ان کو گالیاں دیتے ہیں اور جو سیاستداں اپنے بچوں کو پڑھائی سے 
لیکر عیاشیوں کے لیے بیرون ممالک گھماتے پھرتے ہیں ہم انہیں اپنا مسیحہ سمجھتے ہیں۔
آئی ایس آئی کے گمنام سپاہیوں کو سلام -

Saturday, 13 May 2017

Captain Rooh Ullah Shaheed


Captain Rooh Ullah, who was 26-years-old, was a resident of Ocha Wala area of Shabqadar Tehsil in Charsadda. Rooh Ullah Shaheed is survived by four siblings, including three brothers and a sister, of whom he was the eldest.
He completed his primary education from Islamia Collegiate School and received secondary education from the Hayatabad Medical College.
His father, Najibullah Mohmand, always wanted his son to become a doctor but Rooh Ullah was simply obsessed with serving his country’s armed forces. He joined the army as a commissioned officer in 2009 and after completing military training from PMA Kakul L/C 125 in 2011, he was commissioned into the military’s 50th Baloch Regiment.
Captain Rooh Ullah initially served in Okara. There, he joined the elite commando group of the Pakistan Army after which he was sent to Peshawar to carry out Intelligence-Based Operations (IBOs) during the military’s operation against terrorists. Rohullah participated in major operations, including the Army Public School Peshawar, Bacha Khan University, Charsadda and the Christian Colony attack in Warsak.
The 26-year-old was transferred to Balochistan on September 28 where he laid down his life while clearing the area of terrorists who had stormed the police training centre.
 According to his cousin and childhood friend, Ehtisham Mohmand; He was the most joyful person of our family. He always wanted to become an officer of the army. Whenever we called him, he asked us not to disturb him during duty hours and promised he would take a few days off the next month to talk about things other than work.”
Captain Rooh Ullah selflessly sacrificed himself so that scores of other police cadets could live another day. This account was shared by a police cadet who had survived through the horror of October 24, when militants stormed the Police Training Centre in Quetta. Recalling the incident, according to media sources, the police cadet claimed that one suicide bomber managed to enter a roomful of cadets and hide with them inside. 
"The suicide bomber had come inside our room and hide himself beneath a charpoye," he said. "It was pitching dark and we thought he was also one of the cadets and not a suicide bomber. It was then that the door opened and Captain Rooh Ullah came inside," he added. 
The survivor narrated how Captain Rooh Ullah told them all that he was an SSG soldier, to which everyone responded that they were police cadets.
"He (Captain Rooh Ullah Shaheed) then told us to come out of the room with our hands up," he said. "I can still remember his voice then as he said to us, 'Who is that beneath the charpoye'. Saying that, he kicked the charpoye and the suicide bomber, who was still hiding under it, was exposed. Captain Rooh Ullah threw himself at the suicide bomber without a second's delay and all I remember then was a blast," the cadet revealed.
The survivor then recounted how they all lost their consciousness and later came to know that the SSG soldier's heroic act had claimed his life but had saved lots of others. He thanked Captain Rooh Ullah Shaheed for rendering the ultimate sacrifice and saluted him for his bravery. 
61 security officials were martyred in the attack which took place on Monday night and more than 150 were injured in the incident. 
Army chief General Raheel Shrif has awarded Captain Rooh Ullah with the fourth highest military award of Pakistan Tamgha-e-Jurat (Medal of Courage) for showing extraordinary gallant and for distinguished service performed in combat operations. RIP Captain 

شہید اول ردالفساد لیفٹینٹ خاورشہاب


ایک سپاہی کہتے ہیں کہ جب ایک پہاڑی حاصل کرنے کے لئے تین اطراف سے پاک فوج کے جوانوں نے خوارج طالبان پہ حملہ کیا تو اس وقت طالبان دشمن کےاہم کمانڈر بھی موجود تھے- اور اس تک رسائی 8 کلومیٹر فاصلے پر تھی-
خوارج بھگوڑوں نے اس پہاڑی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے راستے میں IED نصب کئے تھے جب خاور اپنے پلاٹون کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے لگے تو آفیسر بھی ساتھ تھے- خاور لڑتے اور آگے پیش قدمی کرتے- اور دشمنوں کو ان کی نعشے نہ اٹھانے دیتے اور دشمن کو بھاگنے نہ دیا دشمن پر اکیلے ھی قہر بن کر ٹوٹ پڑے IED انکی کمپنی نے diffuse کئے- خاورنے اس وقت LMG گلے میں ڈال کر آگے پیش قدمی کی دشمن پہلے پوئنٹ سے پیچھے ہٹنے لگے اور بھاگنے لگے لیکن لیفٹینٹ خاور اور نائیک شہزاد نے انہوں بھاگنے نہ دیاخاورکے ساتھ سپاہی شیزادہ زخمی ہوئے لیکن خاور کا حوصلہ برقرار تھا اور نعرہ تکبیر کے ساتھ اگے بڑھتے جا رہے تھے دشمن کی گولیوں کے بیچ سے گزرتے ھوئے انہوں نے کہی خوارج کو واصل جہنم کیا اور خاور کےپاس12sceond ٹائم تھا واپسی کا لیکن خاور نے واپس آنے سے آگے بڑنے اور شہادت کو ترجیح دی اتنے میں خاور نے کئی خوارج کو واصل جہنم کیا اور دشمنان اسلام کے میں مورچںوں تک پہنچ گےجہاں ھزار کے قریب خودکش بمب دھماکے کا مواد تھا دشمن اپنے مورچے سے بھاگ کھڑے ھوے اتنے میں دور سے sniper نےخاور کی آنکھ کے دائیں طرف گولی لگی- گولی کا لگنا تھا کہ خاور زمین کی طرف جھک گیے- پہلے دونوں ہاتھ لگائے پھر گھٹنے لگائے اور اس کے بعد سر زمین پہ رکھ دیا- اور سجدہ ریز ہو کر شہادت قبول کی- دشمن دوبارہ حملہ کرتے اور پاک فوج انکو مار بھگاتے2مارچ کو خاورکو گولی لگی- لڑائی اتنی شدیدتھی کہ خاور کو اٹھا کر نیچھے یونٹ کی طرف لانا مشکل تھا- 2مارچ کو رات کودوبارہ پاک فوج کے جوانوں نے پہاڑی کی چوٹی تک رسائی حاصل کرنے کہ لیے 3کوبراجہازمنگوائےاور ان جہازوں کی شیلنگ کی مدد سے دشمن کے مورچے تبا کئیے اور خاور شہاب اورشہزادہ کی باڈییز کو بنوں یونٹ میں لایا گیا- جب دیکھا تو خاور اسی طرح سجدہ ریز تھے- جب خاورکو پلٹا کر دیکھا تو اس وقت بھی خاورکے چہرے سے تازہ خون رس رہا تھا- جب پہاڑی سے خاور کی body کو اتارنے لگے تو یونٹ تک خاور کے دونو ہاتھ خودبخود سیدھے ہونے لگے- جس جگہ خاور کی شہادت ھوئ ھے وہاں سے ھزاروں ٹن بارود آرمی کو ملا ھے جس سے 1000 خود کش دھماکے بنائے جانے والےتھے خدا کی قدرت کے ایک خاور کی قربانی لے کر باقی جانوں کو بچا لیا ورنہ جس جگہ خاور کی شہادت ھوئی کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں پر خوارج کے اور بارود کے اڈے ھیں خاور نے اپنی جان کا نزرانہ پیش کر کے ھزاروں مسلمانوں کی جان کو بچایا  اللہ تعالٰی خاور کی قربانی کو قبول فرمائےاِس محفل میں جو دن اُس نے گزارے تھے 
قلم لکھنے سے قاصر ہےوہ دن کتنے ہی پیارے تھے فخر ہے خاور پہ کے جس نے خوارج کو جہنم رسید کروایا- اب خدا کو معلوم کہ ان میں  کتنے خودکش بنتے اور معصوموں کی جان لیتے- خدا کی حکمت- کہ شایدخاورکی قربانی لکھی تھی جس کی وجہ سے ھزاروں جانے بچ گی  اور خاور کو اللہ پاک نےشہادت جیسی نعمت نصیب فرمائی خاور کو شھادت مبارک ہو کیونکہ قوم دوبارہ
 برداشت نہیں کر پائیے گی - APS incident 

Capt Akash Rabbani Shaheed


Captain Akash Rabbani, who was killed by militants in Mirali, was laid to rest with full military honour in his ancestral graveyard in Habibullah Colony near PMA Kakul, Abbottabad.
The funeral prayers of the 25-year-old SSG officer were attended by high ranking army officers, relatives and people from all walks of life at Frontier Force Regiment Centre Ground.
Capt Akash was killed in exchange of fire with militants in the ongoing military operation Zarb-i-Azb in Mirali tehsil of North Waziristan Agency on Tuesday.
Capt Akash, the youngest son of Dr Aftab Rabbani, the head of medicines department in Ayub Medical Complex Abbottabad, joined army as a member of 123 long course and passed out from Kakul in 2011.
He was posted in 47 Artillery and after two years he was selected for the training of Special Services Group. Later he was posted at Tarbela from where he was selected for the special task force posted in North Waziristan.
Dr Rabbani says “He is proud of his son”.
“Akash Rabbani studied at Abbottabad Public School. He was a brilliant student throughout his academic carrier,” According to his father;  He said Akash wanted to do something for his motherland.
Recalling the last two months of his son’s life, Dr Rabbani said that he had invited the family members at different functions held at his unit and was very happy from his job. He said that his son always used to say that he was enjoying his service with full professional zeal.
Dr Rabbani said that his son was young and energetic. It was just beginning of his life, he added. “We all family members had many dreams for him but the honour he received is something different.
Dr Rabbani said that they were proud of him and his success. “Akash told us about his first major success in Miramshah when security forces traced a training centre of suicide bombers.
Dr Rabbani said that his son wanted to bring peace to the country and free the country from the militants.
“The day is not far when efforts and sacrifices rendered by the sons of soil like Akash will bear fruits and Pakistan will be put on the path of progress and development.
Capt Akash was nephew of DIG Nisar Tanoli, EDO Dr Javed Tanoli and former nazim Shaukat Tanoli. He was the younger brother of Dr Danish Rabbni.

Later a floral wreaths ob the behalf of President of Pakistan, Prime Minister, COAS and his unit were laid on his grave. 

کپٹن یحییٰ شہید



کپٹن یحییٰ شہید بڑے نازونعم میں پلا۔ اُس کی ہلکی سی تکلیف بھی پورے گھرانے کو غمگین کر دیا کرتی تھی۔ کیپٹن یحییٰ نہ صرف ہونہار
طالب علم تھے بلکہ اپنے دوستوں اور استادوں میں اپنے اخلاق اور مزاح کی وجہ سے بہت پسند کئے جاتے تھے۔     جب کیپٹن یحییٰ نے یٹرک کیا تھا تو والد نے چاہا کہ کیڈٹ کالج بھجوا دیا جائے مگر والدہ نے اپنی محبت سے مجبور ہو کر انکار کر دیا تھا مگر جب قدرت کے کارخانے میں اُن کے جسم پہ وردی پہنائے جانے کا بگل بجا تو وہی لاڈلا گڈا جس کا چہرہ دیکھے بنا ماں کو نیند نہ آتی تھی اور سوتے میں بہن جب تک ماتھا نہ چوم لیتی تو کمرے میں روشنی نہ بجھاتی تھی‘ کچھ نہ کر سکے اور حیران ہو گئے جب کیپٹن یحییٰ صمدنے بتایا کہ وہ تو ISSB کے لئے سلیکٹ ہو گیا ہے۔ اُن کی خوشی کی انتہا نہ تھی کیونکہ وہ اور اُن کا تمام گھرانہ افواجِ پاکستان کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے بلکہ وردی سے اور اُن وردی والوں کے عظیم جذبے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔اب کیپٹن یحییٰ کے لئے زندگی کا راستہ  اور بھی آسان ہو گیا تھا۔ 16مئی 2008 کو اپنے وطن کا یہ سپوت بہت سے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے نکل پڑا اور اس کا پہلا پڑاؤ کشمیر میں تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ سیالکوٹ آ گئے۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کیپٹن یحییٰ خُدا کی قدرت اور اُس کی کاریگری دیکھتے تو گھنٹوں گھر والوں کو اس کے بارے میں بتاتے۔ پھر چھ سات ماہ سیالکوٹ رہنے کے بعد وہ جنوبی وزیرستان (لدھا) چلے گئے۔ کیپٹن یحییٰ میں دوسرے فوجی افسروں کی طرح فوجی معاملات گھر میں بحث مباحثے میں لانے کی عادت نہ تھی۔ اس لئے وہ کبھی موسم وقت یا حالات کی سختیوں کا تذکرہ نہ کرتے۔ جب کیپٹن یحییٰ گھر آتے تو پورے گھرانے میں ایک زندگی کی رونق نظر آنے لگتی۔جب کبھی بہت بھوک لگتی تو بلند آواز میں کہتے اوئے ظالمو مجھے بھوک لگی ہے اور تم سب خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہو اور پھر والدہ اور بہنوں کے ساتھ باورچی خانے میں مدد کرنے لگ جاتے۔ اس طرح کیپٹن یحییٰ شہید کی معصوم اور محبت سے بھرپور ادائیں سب کے دلوں کو بہت اچھی لگتیں۔ وہ گھر کے لئے قمقموں کی ایسی لڑی تھے کہ ہر وقت روشنی کرتے اور پھولوں کی ایسی باڑ کہ اُن کے جانے کے بعد بھی گھر والوں کے دل اُن کی خوشبو سے معطر رہتے۔والدہ کے قدموں میں بیٹھ کر پاؤں دباتے اور کہتے آج تو آپ سے جنت لے کے جاؤں گا اور ماں اگر مذاق میں کہتیں ہائے میرا پاؤں آہستہ پکڑو تو کہتے اماں جنت نکال رہا ہوں آرام سے تو نہیں نکلے گی ناں۔ وزیرستان کے کیا حالات تھے گھر والوں کو خبر نہ تھی مگر وہاں رہنے کے بعد کیپٹن یحییٰ کی شخصیت میں سب سے بڑا فرق یہ آیا کہ جہاں اذان ہوتی سارے معاملات چھوڑ کر نماز پڑھتے وہ تہجد گزار ہو چکے تھے۔ گھر چھٹی پہ آتے تو رات کو اُٹھ کر خاموشی سے جائے نماز لے کر ڈرائنگ روم میں آجاتے اور اُن کی بڑی بہن نویدہ نے اُنہیں راتوں کو سجدہ میں اللہ کے حضور روتے ہوئے سُنا اور دیکھا مگر کبھی اُن سے پوچھنے کی ہمت نہ کہ یحییٰ تم اللہ سے گڑ گڑا کے کیا مانگتے ہو۔ نویدہ کا کہنا تھا کہ یہ یحییٰ اور اللہ کا معاملہ تھا۔ یحییٰ شہید کی شہادت کے بعد گھر والوں کو ایک ڈائری ملی جس میں اپنی وصیت لکھ کے گئے تھے۔۔۔۔۔اُنہوں نے لکھا تھا کہ میرا سوگ تین دن سے زیادہ نہ منانا۔ اگر میں زندہ نہ آیا تو میری ماں کو عمرہ ضرور کرانا۔ میری میت کے پاس کھڑے ہو کر (اگر کسی کو مجھ سے کبھی کوئی اذیت پہنچی ہو تو) سب مجھے معاف کر دیں۔ کیپٹن یحییٰ کی منگنی ہو چکی تھی۔ اپنی منگیتر فاطمہ کے لئے بھی اُنہوں نے ایک وصیت لکھی تھی کہ اگر میں زندہ نہ رہا تو فاطمہ شادی ضرور کرے اور اگر وہ میرے نکاح میں آ چکی ہو اور میں نہ رہوں تو بھی وہ دوسری شادی ضرور کرے۔ اُن کی وصیت سے لگتا تھا کہ جیسے وہ زندگی کی حقیقتوں سے مکمل طور پر آشنا تھے اور بعد کی زندگی کے مسائل پر بھی نگاہ رکھتے تھے۔ شہادت سے چند دن پہلے انہوں نے اپنی بہن کو شہادت پہ بنائی ہوئی ایک مووی دکھائی تو بہن رونے لگی اُس کا سر پیار سے اپنے کندھے سے لگا کر کہنے لگے پگلی میرے لئے دُعا مانگو تو شہادت کی مانگنا کہ اس کا بہت بڑا درجہ ہے اور یہ بڑی سعادت کی حامل ہے اور اگر میری شہادت کی خبر ملے تو وضو کر کے دو نفل شکرانے کے ضرور ادا کرنا۔ بہن نویدہ کی عادت تھی کہ اگر دن میں ایک بار وزیرستان سے یحییٰ کا فون نہ آتا تو فون ضرور کرتیں۔ ایک بار اُنہیں کہنے لگے آپی آپ کی ان فون کالز نے میرا نام Baby Soldier رکھوا دیا ہے۔ ہر افسر کی طرح اپنے جوانوں سے پیار کرتے اور کوئی شہید ہو جاتا تو والدین کے ساتھ اس کے گھر تعزیت کے لئے جاتے۔جنوری کی صبح وزیرستان میں برف پڑ رہی تھی تو کیپٹن یحییٰ کا فون آگیا۔۔۔بہن نے پوچھا آج میرے گڈے نے کیسے صبح صبح یاد کر لیا تمہارا وقت تو شام کا ہے تو کہنے لگے آج برفباری ہو رہی ہے فون بھی ٹھیک اور فارغ تھا تو میں نے سوچا اتنا پیارا موسم میں اپنی آپی کو اپنی آنکھوں سے دکھاؤں۔۔۔تو آپی نویدہ کو یحییٰ پہ بہت پیار آیا اور کہنے لگیں کہ تم مووی بنا لو میں ضرور دیکھوں گی۔۔۔پھر یحییٰ نے بتایا کہ آج ہم نے مچھلی بنوائی ہے خوب موسم کا مزہ لوٹیں گے۔۔۔اُس دن کیپٹن یحییٰ کی آواز میں بہت خوشی اور سکون تھا پھر کہنے لگے: بس آپی آٹھ دس دن تک یونٹ موو کر رہی ہے پھر میں سیالکوٹ آجاؤں گا۔ یہ آخری بات تھی جو یحییٰ نے اپنی آپی سے کہی۔۔۔رات کو ٹی وی پہ خبر چلنے لگی کہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور فوجی اہلکار شدید زخمی ہوئے۔۔۔نویدہ نے اپنے خاوند سے پوچھا کہ یحییٰ کہاں ہے۔ جنوبی وزیرستان یا شمالی تو انہوں نے فوری طور پر بتایا کہ شمالی وزیرستان میں تو نویدہ دُعائیں کرتی ہوئی سو گئیں۔ اُن کے دل کو دھڑکا سا لگ گیا کہ نہیں شاید وہ جنوبی وزیرستان ہی میں ہے۔ پھر دل کو تسلی دیتیں کہ نہیں نہیں اللہ سب خیر کرے گا۔۔۔۔اور پھر صُبح ایک فون کال آئی ۔۔۔۔ماں نے آواز دی بیٹا فون اُٹھاؤ میرے یحییٰ کی کل میرے سے بات نہیں ہوئی تھی ناں اس لئے اُس نے ہی صُبح صُبح دعائیں لینے کے لئے فون کیا ہو گا۔۔۔مگر قبولیت کا وقت تو دامن چھڑا کے جا چکا تھا۔۔۔ وہ کال تھی تو کیپٹن یحییٰ شہید کے نام کی مگر یحییٰ کی نہیں تھی۔لمحہ بھی نہ گزرا توکیپٹن یحییٰ شہید کے والد دھاڑیں مار کے رونے لگے۔ دل کے مریض تھے۔ منتوں سے مانگا ہوا بیٹا تھا۔ ابھی تو وردی میں انہوں نے اپنے جوان کو دل بھر کے دیکھا بھی نہ تھا اور ماں نے تو سہرا سجانے کی تیاری کر رکھی تھی۔ بہنیں اور بھائی اُس کے جانے کے بعد سے ہی اُس کے آنے کے منتظر ہوا کرتے تھے۔۔۔۔آج بھی اسی آس میں تھے کہ بس آٹھ دس دن کے بعد وہ لوٹ آئے گا مگر وہاں تو شہادت اور جنازے کی باتیں گونجنے لگیں۔ 8جنوری کو پوسٹ پہ حملہ ہوا تو اُن کے مقابلے کے لئے یحییٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے۔ کچھ دہشت گرد مارے گئے تو یحییٰ نے اگلی پوسٹ کے افسر کو پیغام دیا کہ کچھ ابھی وادی میں چھپے ہیں۔ اُدھر سے میں نکلتا ہوں اُدھر سے آپ آگے بڑھیں اور پھر جب یہ نکلے تو اُسی وادی کے جانور نما دہشت گردوں نے فائر کھول دیا۔ کیپٹن یحییٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فائر اینڈ موو (Fire & Move) کرتے آگے بڑھے۔ جلد ہی وہ چند دہشت گردوں کے عقب میں جا پہنچے۔ کیپٹن یحییٰ نے تاک تاک کر نشانے لگانے شروع کئے۔ کچھ ہی لمحے میں چند دہشت گردجہنم واصل ہو گئے اور باقیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ کیپٹن یحییٰ کے ساتھیوں نے جب کمانڈر کی یہ بہادری اور مہارت دیکھی تو بھاگتے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ اسی طرح مقابلہ کرتے کرتے فوج کے یہ بہادر جوان دشمن کو پیچھے دھکیلتے گئے تاہم چند دشمن موقع کی تاک میں تھے۔جونہی کیپٹن یحییٰ ان کے نشانہ کی زد میں آئے تو انہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سینے پہ برسٹ لگا اور کئی گولیاں جسم کے پار ہو گئیں۔ اللہ اکبر کا نعرہ گونجا اور کیپٹن یحییٰ شہید ہو گئے۔ تاہم شہادت سے پہلے وہ اپنا مشن مکمل کر چکے تھے۔ دہشت گردوں کا حملہ ناکام ہو چکا تھا۔ گھر والوں نے بڑے فخر سے اُس لاڈلے گڈے کا استقبال کیا۔بہن نے وصیت کے مطابق وضو کر کے بلکتے ہوئے دو نفل شکرانے کے ادا کئے۔سوگ بھی تین دن ہی منایا مگر اب اُس گھر میں ہنسی کی آواز اُس طرح سے سنائی نہیں دیتی۔ سارے کردار موجود ہیں مگر کیپٹن یحییٰ شہید کی کمی اُن کے دلوں کا روگ بن گئی ہے۔ مگر آفرین ہے اُس بہن پر اور والدین پر جو آج بھی کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے جسموں پہ وردیاں سجتی رہیں گی اور شہادت کی دُعائیں بھی مانگی جاتی رہیں گی کہ زندگی ہے تو صرف وطن اور اسلام کے لئے اور فوج سے بہترین فریضۂ عشق کوئی ادا نہیں کرسکتا....#Military Berets#

The Dark and Deep Web

The Dark Web is a part of the World Wide Web that requires special software to access. Once inside, web sites and other services c...