Sunday, 3 December 2017

خوارج کی 35 نشانیاں


اس تحریر میں خوارج کی وہ 35 نشانیاں ہیں جو احادیث مباک میں حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں تفصیل میں خوارج ایک قدیم گمراہ فرقہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں وجود میں آیا سب سے پہلے انکے ہی لشکر سے نکلے جنگیں صفین میں جب صلح ہوئی حضرت علی رضہ اور حضرت امیر معاویہ رضہ کے درمیاں اسکے بعد سے, اس فرقے نے سب سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معاذ اللہ کافر اور مشرک کہا جنگ نہروان جب حضرت علی رضہ اللہ تعالیٰ نے خوارج کے خلاف لڑی تو سربراہ خوارج کا خرکوس نام کا شخص تھا جس کا ہاتھہ لتھڑا ہوا تھا گوشت میں جیسے ٹنڈا ہوتا ہے بندہ آپ صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم پہلے ہی حضرت علی رضہ کو بشارت دے گئے تھے آپکے مقابلے جو آئے گا شخص اسکا ہاتھہ لتھڑا ہوگا اور دیگر علامات بتائی تھی۔
جب صحابہ نے جنگ نھرواں کے بعد خوارج کو شکست دینے کے بعد نعرے بلند فرمائے, تو حضرت علی رضہ نے فرمایا کہ یہ ختم نہین ہوئے خوارج ہر دور میں نکلیں گیں, انکے بچیں ماوں کے پیٹ میں پل رہیے ہیں, کچھہ گھٹنوں کے بل چل رہیے ہیں,کچھہ نہر پار کرکے بھاگ گئے ہیں , یہ ہر دور میں نکلتے رہیں گیں۔
آپ ٹی ٹی پی دیکھہ لیں, دائش دیکھہ لیں, جماعت الاحرار, لشکرے جھنگوی دیکھہ لیں جتنی بھی آج عالم اسلام میں دہشت گرد تنظیمیں اور تحریکیں ہیں سب اسی فکر کے حامل ہیں۔
یہ جو خودکش حملے کرتے ہیں اللہ اکبر کے نعرے لگا کے اسکے پیچھے کوئی تو نظریہ ہے نہ, وہ نظریہ یہی خوارج والا ہے, خوارج کا ظہور ہر دور میں ہوتا رہا حضرت علی رضہ کے دور میں عبداللہ ابن صباح کی شکل ہو یا خرکوس کی شکل میں ہو ,یا پھر گیاریوں صدی میں حسن بن صباح کے نام سے ہو جس نے حشاشین کا گروہ بنایا تھا جس نے مصنوئی جنت بنا کے لوگوں کو گمراہ کیا تھا, جیسے آج ٹی ٹی پی کرتی ہے مصنوعی جنت کے خواب دکھا کے نوجواں لڑکوں کو برین واش کرتی ہے۔
ان خوارج کو حمایت انڈین مشرکوں, یہود و نثارہ کی بھی ہے ٹی ٹی پی کی فنڈگ انڈیا کی را, اسرائیلی ایجنسی موساد, امریکن ایجنسی سی آئی اے براہ ہراست کر رہی ہیں اور اسکو مذھبی شکل مذھبی گروہ دے رہے ہیں جیسے دارالعلوم دیوبند انڈیا کر رہا ہے مذھبی نظریہ دے کے برین واش کرکے ان سے خود کش حملے کروائے جاتے ہیں۔
یہی نہیں ان خوارج ٹی ٹی پی, دائش دیگر جماعتوں میں میں تو خود انڈین مشرک فوجی,یہودی فوجی شامل ہین اسکا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جتنے پکڑے جاتے ہیں انکے پیٹ پے شیطانی صہیونی علاماتات اور اسلے علاوہ کئی کے تو خطنے بھی نہیں کیے ہوئے ہوتے۔
پر صرف مشرک نہیں اکثریت ملسمانوں کی ہیں جنکو تیار کیا جاتا ہے دیوبندی علماء کی طرف سے خاص کرکے دارلعوم دیوبند انڈیا کا بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے اس میں , اور ان سب کے سہولتکار اسی مکتبِ فکر کے پاکستان میں موجود ہیں۔
پاک آرمی کو چاہیے انکو اسی مکتبِ فکر کے ذریعے ہی Neutralize کرایا جائے اسی مکتبِ فکر کے علماء سے انکے خلاف فتویٰ دلائے جائے, میڈیا پے خوارج کے لفظ کو عام کیا جائے, انکے سہولتکار جو پاکستان میں موجود ہیں انکو پکڑا جائے تب جاکے سکون ہوگا اس ملک میں پاکستان میں ایک لاکھہ سے زیادہ پاکستانی ہلاک کر چکے ہیں یہ خوارج انڈیا کے پالتو, کل ہی حملہ ہوا پشاور یونیورسٹی میں انہیں کی طرف سے,اے پی ایس میں معصوم بچے شہید کیے انہیں خوارج نے , پاک آرمی نے دو آپریشن ضربِ عضب اور ردلفساد کرکے انکو بھگا دیا ہے افغانستان پر ابھی بھی وہیں سے حملے کر رہیے ہیں امریکہ انڈیا کی مدد سے, افغاناتان کے شہر kunar,قابل میں بیٹھے ہیں یہ براہ ہراست انڈیا, امریکہ اور امریکہ کی پپٹ حکومت اشرف غنی کے زیرِ سایہ ,پاک آرمی کو افغانستان میں گھس کے انکے ٹھکانوں کو تباہ کردینا چاہیے۔
نیچے میں نے 35 علات خوارج کی جمع کی ہیں پڑھیے اور اسکے بعد دیکھیں کیا یہ سب ان ٹی ٹی پی, دائش اور دیگر جماعتوں پے فٹ ہوتی ہیں کہ نہیں, دائش کے بارے میں تو کتاب الفتن میں تفصیل موجود ہے۔
(1)
  أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ. 
(بخاری،کتاب اسنتتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم،رقم : 6531/ مسلم، کتاب الزکاة،رقم : 1066)
(2)
’’وہ کم سن لڑکے ہوں گے۔‘‘
  سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ.
(بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم،رقم: 6531/مسلم، کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’دماغی طور پر ناپختہ (brain washed) ہوں گے۔‘‘
(3)
 کَثُّ اللِّحْيَةِ.
(بخاري، کتاب المغازي،رقم : 4094/مسلم، کتاب الزکاة، رقم: 1064)
’’(دین کے ظاہر پر عمل میں غلو سے کام لیں گے اور) گھنی ڈاڑھی رکھیں گے۔‘‘
(4)
مُشَمَّرُ الْإِزَارِ.
(بخاری،کتاب المغازی، رقم : 4094/مسلم،کتاب الزکاة، 2: 742،رقم: 1064)
’’بہت اونچا تہ بند باندھنے والے ہوں گے۔‘‘
(5)
يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ.
بخاری،کتاب التوحيد،رقم : 7123)
’’یہ خارجی لوگ مشرق کی جانب سے نکلیں گے۔‘‘
(6)
 لَا يَزَالُوْنَ يَخْرُجُوْنَ حَتّٰی يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيْحِ الدَّجَّالِ.
(نسائي، کتاب تحريم الدم،رقم : 4103)
’’یہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔‘‘
یعنی یہ خوارج دجّال کی آمد تک تاریخ کے ہر دور میں وقتاً فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔
(7)
 لَا يُجَاوِزُ إِيْمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ.
(بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم،رقم : 6531/ مسلم، کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔‘‘
یعنی ان کا ایمان دکھلاوا اور نعرہ ہوگا، مگر اس کے اوصاف ان کے فکر و نظریہ اور کردار میں دکھائی نہیں دیں گے۔
(8)
 يَتَعَمَّقُوْنَ وَيَتَشَدَّدُوْنَ فِی الْعِبَادَةِ.
( مسند أبويعلی، المسند، رقم : 90/ مصنف عبد الرزاق، رقم : 18673)
’’وہ عبادت اور دین میں بہت متشدد اور انتہاء پسند ہوں گے۔‘‘
(9)
 يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ.
(بخاری، کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، رقم : 6534/مسلم،کتاب الزکاة، رقم : 1064)
’’تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا۔‘‘
(10)
 لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ.
(مسلم، کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’نماز ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘
یعنی نماز کا کوئی اثر ان کے اخلاق و کردار پر نہیں ہوگا۔
(11)
 يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرائَتُکُمْ إِلَی قِرَاءَ تِهِمْ بِشَيءٍ.
(مسلم،کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’وہ قرآن مجید کی ایسے تلاوت کریں گے کہ ان کی تلاوتِ قرآن کے سامنے تمہیں اپنی تلاوت کی کوئی حیثیت دکھائی نہ دے گی۔‘‘
(12)
 يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ.
(بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم،رقم : 6532/ مسلم،کتاب الزکاة،رقم : 1064)
’’ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘
یعنی اس کا کوئی اثر ان کے دل پر نہیں ہوگا۔
(13)
 يَقْرَئُوْنَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُوْنَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ.
(مسلم، کتاب الزکاة،رقم : 1066)
’’وہ یہ سمجھ کر قرآن پڑھیں گے کہ اس کے احکام ان کے حق میں ہیں لیکن درحقیقت وہ قرآن ان کے خلاف حجت ہوگا۔‘‘
(14)
 يَدْعُونَ إِلَی کِتَابِ اﷲِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْئٍ.
(سنن أبو داود، کتاب السنة، رقم : 4765)
’’وہ (بذریعہ طاقت) لوگوں کو کتاب اﷲ کی طرف بلائیں گے لیکن قرآن کے ساتھ ان کا تعلق کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
(15)
 يَقُوْلُوْنَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ.
(بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، رقم : 6531/مسلم،کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’وہ (بظاہر) بڑی اچھی باتیں کریں گے۔‘‘
یعنی دینی نعرے (slogans) بلند کریں گے اور اسلامی مطالبے کریں گے۔
(1) جیسے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خوارج نے لاَ حُکْمَ إِلاَّ لِلّٰهِ کا پُر کشش نعرہ لگایا تھا۔
(16)
يَقُوْلُوْنَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَوْلًا.
(المعجم الأوسط - طبراني، الرقم : 6142)
’’ان کے نعرے (slogans) اور ظاہری باتیں دوسرے لوگوں سے اچھی ہوں گی اور متاثر کرنے والی ہوں گی۔‘‘
(17)
 يُسِيْئُوْنَ الْفِعْلَ.
(سنن أبوداود،کتاب السنة، رقم : 4765)
’’مگر وہ کردار کے لحاظ سے بڑے ظالم، خونخوار اور گھناؤنے لوگ ہوں گے۔‘‘
(18)
 هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيْقَةِ.
(مسلم،کتاب الزکاة،الرقم : 1067)
’’وہ تمام مخلوق سے بدترین لوگ ہوں گے۔‘‘
(19)
 يَطْعَنُوْنَ عَلٰی أُمَرَائِهِمْ وَيَشْهَدُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالضَّلَالَةِ.
(ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 455، رقم : 934/ مجمع الزوائد - هيثمي ، 6 : 228، وقال : رجاله رجال الصحيح)
’’وہ حکومت وقت یا حکمرانوں کے خلاف خوب طعنہ زنی کریں گے اور ان پر گمراہی و ضلالت کا فتويٰ لگائیں گے۔‘‘
(20)
 يَخْرُجُوْنَ عَلٰی حِيْنِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ.
(بخاری،کتاب المناقب، رقم : 3414/ مسلم، کتاب الزکاة، رقم : 1064)
’’وہ اس وقت منظرِ عام پر آئیں گے جب لوگوں میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہو جائے گا۔‘‘
(21)
 يَقْتُلُوْنَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدْعُوْنَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ.
(بخاری، کتاب التوحيد،رقم : 6995/ مسلم،کتاب الزکاة،رقم : 1064)
’’وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
(22)
 يَسْفِکُوْنَ الدَّمَ الْحَرَامَ.
(مسلم،کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’وہ ناحق خون بہائیں گے۔‘‘
یعنی مسلم اور غیر مسلم افراد کا قتل جائز سمجھیں گے۔
(23)
 يَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَيَسْفِکُوْنَ الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ مِنَ اﷲِ وَيَسْتَحِلُّوْنَ أَهْلَ الذِّمَّةِ. (من کلام عائشة رضي اﷲ عنها)
(حاکم، المستدرک،رقم : 2657)
’’وہ راہزن ہوں گے، ناحق خون بہائیں گے جس کا اﷲ تعاليٰ نے حکم نہیں دیا اور غیر مسلم اقلیتوں کے قتل کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ (یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔)
(24)
 يُؤْمِنُونَ بِمُحْکَمِهِ وَيَهْلِکُونَ عِنْد مُتَشَابِهه. (قول ابن عباس رضی الله عنه).
(تفسیر طبری، 3 : 181/ فتح الباری، 12 : 300)
’’وہ قرآن کی محکم آیات پر ایمان لائیں گے جبکہ اس کی متشابہات کے سبب سے ہلاک ہوں گے۔‘‘ (قولِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ)
(25)
 يَقُوْلُوْنَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يُجَاوِزُ حُلُوْقَهُمْ. (قول علي رضی الله عنه)
(مسلم، کتاب الزکاة،رقم : 1066)
’’وہ زبانی کلامی حق بات کہیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔‘‘ (قولِ علی رضی اللہ عنہ)
(26)
 ينْطَلِقُوْنَ إِلَی آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الْکُفَّارِ فَيَجْعَلُوْهَا عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ. (من قول ابن عمر رضی الله عنه)
(بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، رقم : 2539)
’’وہ کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق مسلمانوں پر کریں گے۔ اس طرح وہ دوسرے مسلمانوں کو گمراہ، کافر اور مشرک قرار دیں گے تاکہ ان کا ناجائز قتل کر سکیں۔‘‘ (قولِ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ سے مستفاد)
(27)
 يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.
1. بخاری،کتاب استتابة المرتدين والمعاندين وقتالهم، رقم : 6531/مسلم، کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’وہ دین سے یوں خارج ہو چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے خارج ہو جاتا ہے۔‘‘
(28)
 اَلْأَجْرُ الْعَظِيْمُ لِمَنْ قَتَلَهُمْ.
(مسلم،کتاب الزکاة، رقم : 1066)
’’ان کے قتل کرنے والے کو اجرِ عظیم ملے گا۔‘‘
(29)
 خَيْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوْهُ.
(ترمذی، کتاب تفسير القرآن، رقم : 3000)
’’وہ شخص بہترین مقتول (شہید) ہوگا جسے وہ قتل کر دیں گے۔‘‘
(30)
 شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاءِ.
(ترمذی، کتاب تفسير القرآن، رقم : 3000)
’’وہ آسمان کے نیچے بدترین مقتول ہوں گے۔‘‘
یعنی جو دہشت گرد خوارج فوجی سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے تو وہ بدترین مقتول ہوں گے اور انہیں مارنے والے جوان بہترین غازی ہوں گے۔
(31)
 إِنَّهُمْ کِلَابُ النَّارِ.
(ترمذی،کتاب تفسير القرآن، رقم : 3000)
’’یہ (دہشت گرد خوارج) جہنم کے کتے ہوں گے۔‘‘
(32)
۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کو دائمی جہنمی اور اس کا خون اور مال حلال قرار دیں گے۔
(33)
۔ ظالم اور فاسق حکومت کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو فرض قرار دیں گے۔
(عبد القاهر بغدادی، الفرق بين الفرق : 73/ابن تيميه، مجموع فتاوی، 13 : 3
 (34)
 خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ کسی مخصوص علاقے کو گھیر کر اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مرکز بنا لیں گے، جیسے کہ انہوں نے خلافت علی المرتضيٰ رضی اللہ عنہ میں حروراء کو اپنا مرکز بنا لیا تھا یعنی وہ اپنے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنائیں گے۔
35۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ حق کے ساتھ مذاکرات کو ناپسند کریں گے، جس طرح انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تحکیم کو مسترد کر دیا تھا۔
#Copied

No comments:

Post a Comment

The Dark and Deep Web

The Dark Web is a part of the World Wide Web that requires special software to access. Once inside, web sites and other services c...