گزشتہ روز کچھ اپنے میر جعفر و صادق کی غداری ایک بار پھر ہمارے
معصوم و بے قصور پاکستانیوں کو خون میں نہلا گئی جس کے بعد جتنے منہ اتنی
باتیں کے مصداق لوگ اپنی اپنی سوچوں کو پھاڑتے ہوئے پاک فوج اور خفیہ
ایجنسیوں کے کردار پر سوال اٹھانے لگے لیکن کسی نے اس سانحے کے نشیب و فراز
یا طریقہ کار پر غور نہیں کیا کیونکہ یہ کام خفیہ اداروں کا ہے اور انہی
کو جچتا ہے۔
جبکہ لوگوں کا کام اپنی اپنی سوچوں کے مطابق اظہار خیال کرنا ہے جس میں ہمارے لوگ اپنا کوئی
ثانی نہیں رکھتے۔ اور یہ عوام کا حق بھی ہے لیکن اس اثناء میں ایسی غلطی
مت کیجئے گا جس کا ازالہ مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جائے۔ دشمن کی زبان بولنے
والے لوگ ہی دشمن کا شکار بنتے ہیں۔
16 دسمبر 2014 کے بعد سے لے اب موجودہ لمحے تک ہماری فوج و دیگر سیکیورٹی
فورسز حالت جنگ میں ہیں اور مختلف محاذوں پر اندرونی و بیرونی اور سیاسی و
غیر سیاسی دشمنوں کے خلاف آپریشنز میں مصروف ہیں اور پاکستان کے ساتھ ساتھ
پوری دنیا جانتی ہے کہ اس عرصے میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کس قدر
حیران کن کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے عسکری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا
ہے۔
اور تب سے دھماکوں یا دہشت گردی کے واقعات میں اس حد تک کمی
آئی ہے کہ تقریبا ختم ہو چکے ہیں لیکن اگر کوئی بد قسمتی سے اکا دکا واقعہ
رونما ہوتا ہے تو ایسی صورتحال میں فوج یا ایجنسیوں کا گریبان جھجوڑنے سے
بہتر ہے اپنے ارد گرد گلی محلے میں دیکھئے اور نظر رکھئے کہ یہ کون لوگ ہیں
جو رکشے والے بن کر دہشت گردوں کو موقع واردات تک پہنچاتے ہیں جس کے سبب
سیکیورٹی اداروں پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔
جبکہ سیکیورٹی فورسز اور
خفیہ ایجنسیاں اپنے کام سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ عوام ان کے فرائض کی
نوعیت کو سمجھنے سے قاصر ہے لیکن چھوٹی سی مثال دیتا چلوں حالیہ زرعی
یونیورسٹی والے واقعے کی جس کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور یہ
افسوسناک سانحہ ابھی کل ہی رونما ہوا تھا کہ آج علی الصبح افغانستان کے شہر
جلال سے تین دھماکوں کی خبر آ گئی۔
یہ گمنام لوگ اپنے وطن کیخلاف
سازشیں کرنے والوں کو خاموشی سے موت کی نیند سلا دیتے ہیں اور عوام اس بات
سے بے خبر ہوتی ہے کہ کتنے لوگ تھے پلان کیسے بنایا کتنے لوگ جان سے گئے
کون گرفتار ہوا یا کتنے گمنام مجاہد انڈر کور ہوئے کیونکہ وطن کے یہ گمنام
مار خور صرف شکار کرنا جانتے ہیں اور کسی بھی اعزاز یا ایوارڈ کی حسرت کیے
بغیر اگلے سانپ یا ناگ کا پھن کچلنے کے لیے چل پڑتے ہیں۔
عوام بے
خبر ہے اداروں کے کام سے لیکن ایک بات ذہن میں رکھئے کہ یہ لوگ اپنا نام
گھر بار ماں باپ بہن بھائی حتی کہ اپنی شناخت بھی بھول سکتے ہیں لیکن فرائض
کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا ان مجاہدین کا وطیرہ ہے اور ان کے فرائض میں
ملک و ملت کی بقا و سلامتی کے علاوہ پاکستان کی عوام کے جان مال کی حفاظت
کرنا ہے۔ تو عزیز پاکستانیو از راہ کرم آپ مایوس مت ہوں کیونکہ پا کستان کی
حفاظت کے لیے خفیہ مار خور زندہ ہیں بس ان مار خوروں پر بھروسہ کیجئے اور
اپنی دعاوں میں یاد رکھئے۔
جزاکم اللہ خیرا
الملک اللہ الحکم اللہ
پاکستان زندہ باد
پاک فوج و آئی ایس آئی پائندہ باد
جزاکم اللہ خیرا
الملک اللہ الحکم اللہ
پاکستان زندہ باد
پاک فوج و آئی ایس آئی پائندہ باد

No comments:
Post a Comment