ایک سپاہی کہتے ہیں کہ جب ایک پہاڑی حاصل کرنے کے لئے تین اطراف سے پاک فوج کے جوانوں نے خوارج طالبان پہ حملہ کیا تو اس وقت طالبان دشمن کےاہم کمانڈر بھی موجود تھے- اور اس تک رسائی 8 کلومیٹر فاصلے پر تھی-
خوارج بھگوڑوں نے اس پہاڑی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے راستے میں IED نصب کئے تھے جب خاور اپنے پلاٹون کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنے لگے تو آفیسر بھی ساتھ تھے- خاور لڑتے اور آگے پیش قدمی کرتے- اور دشمنوں کو ان کی نعشے نہ اٹھانے دیتے اور دشمن کو بھاگنے نہ دیا دشمن پر اکیلے ھی قہر بن کر ٹوٹ پڑے IED انکی کمپنی نے diffuse کئے- خاورنے اس وقت LMG گلے میں ڈال کر آگے پیش قدمی کی دشمن پہلے پوئنٹ سے پیچھے ہٹنے لگے اور بھاگنے لگے لیکن لیفٹینٹ خاور اور نائیک شہزاد نے انہوں بھاگنے نہ دیاخاورکے ساتھ سپاہی شیزادہ زخمی ہوئے لیکن خاور کا حوصلہ برقرار تھا اور نعرہ تکبیر کے ساتھ اگے بڑھتے جا رہے تھے دشمن کی گولیوں کے بیچ سے گزرتے ھوئے انہوں نے کہی خوارج کو واصل جہنم کیا اور خاور کےپاس12sceond ٹائم تھا واپسی کا لیکن خاور نے واپس آنے سے آگے بڑنے اور شہادت کو ترجیح دی اتنے میں خاور نے کئی خوارج کو واصل جہنم کیا اور دشمنان اسلام کے میں مورچںوں تک پہنچ گےجہاں ھزار کے قریب خودکش بمب دھماکے کا مواد تھا دشمن اپنے مورچے سے بھاگ کھڑے ھوے اتنے میں دور سے sniper نےخاور کی آنکھ کے دائیں طرف گولی لگی- گولی کا لگنا تھا کہ خاور زمین کی طرف جھک گیے- پہلے دونوں ہاتھ لگائے پھر گھٹنے لگائے اور اس کے بعد سر زمین پہ رکھ دیا- اور سجدہ ریز ہو کر شہادت قبول کی- دشمن دوبارہ حملہ کرتے اور پاک فوج انکو مار بھگاتے2مارچ کو خاورکو گولی لگی- لڑائی اتنی شدیدتھی کہ خاور کو اٹھا کر نیچھے یونٹ کی طرف لانا مشکل تھا- 2مارچ کو رات کودوبارہ پاک فوج کے جوانوں نے پہاڑی کی چوٹی تک رسائی حاصل کرنے کہ لیے 3کوبراجہازمنگوائےاور ان جہازوں کی شیلنگ کی مدد سے دشمن کے مورچے تبا کئیے اور خاور شہاب اورشہزادہ کی باڈییز کو بنوں یونٹ میں لایا گیا- جب دیکھا تو خاور اسی طرح سجدہ ریز تھے- جب خاورکو پلٹا کر دیکھا تو اس وقت بھی خاورکے چہرے سے تازہ خون رس رہا تھا- جب پہاڑی سے خاور کی body کو اتارنے لگے تو یونٹ تک خاور کے دونو ہاتھ خودبخود سیدھے ہونے لگے- جس جگہ خاور کی شہادت ھوئ ھے وہاں سے ھزاروں ٹن بارود آرمی کو ملا ھے جس سے 1000 خود کش دھماکے بنائے جانے والےتھے خدا کی قدرت کے ایک خاور کی قربانی لے کر باقی جانوں کو بچا لیا ورنہ جس جگہ خاور کی شہادت ھوئی کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں پر خوارج کے اور بارود کے اڈے ھیں خاور نے اپنی جان کا نزرانہ پیش کر کے ھزاروں مسلمانوں کی جان کو بچایا اللہ تعالٰی خاور کی قربانی کو قبول فرمائےاِس محفل میں جو دن اُس نے گزارے تھے
قلم لکھنے سے قاصر ہےوہ دن کتنے ہی پیارے تھے فخر ہے خاور پہ کے جس نے خوارج کو جہنم رسید کروایا- اب خدا کو معلوم کہ ان میں کتنے خودکش بنتے اور معصوموں کی جان لیتے- خدا کی حکمت- کہ شایدخاورکی قربانی لکھی تھی جس کی وجہ سے ھزاروں جانے بچ گی اور خاور کو اللہ پاک نےشہادت جیسی نعمت نصیب فرمائی خاور کو شھادت مبارک ہو کیونکہ قوم دوبارہ
برداشت نہیں کر پائیے گی - APS incident

No comments:
Post a Comment