Saturday, 13 May 2017

کپٹن یحییٰ شہید



کپٹن یحییٰ شہید بڑے نازونعم میں پلا۔ اُس کی ہلکی سی تکلیف بھی پورے گھرانے کو غمگین کر دیا کرتی تھی۔ کیپٹن یحییٰ نہ صرف ہونہار
طالب علم تھے بلکہ اپنے دوستوں اور استادوں میں اپنے اخلاق اور مزاح کی وجہ سے بہت پسند کئے جاتے تھے۔     جب کیپٹن یحییٰ نے یٹرک کیا تھا تو والد نے چاہا کہ کیڈٹ کالج بھجوا دیا جائے مگر والدہ نے اپنی محبت سے مجبور ہو کر انکار کر دیا تھا مگر جب قدرت کے کارخانے میں اُن کے جسم پہ وردی پہنائے جانے کا بگل بجا تو وہی لاڈلا گڈا جس کا چہرہ دیکھے بنا ماں کو نیند نہ آتی تھی اور سوتے میں بہن جب تک ماتھا نہ چوم لیتی تو کمرے میں روشنی نہ بجھاتی تھی‘ کچھ نہ کر سکے اور حیران ہو گئے جب کیپٹن یحییٰ صمدنے بتایا کہ وہ تو ISSB کے لئے سلیکٹ ہو گیا ہے۔ اُن کی خوشی کی انتہا نہ تھی کیونکہ وہ اور اُن کا تمام گھرانہ افواجِ پاکستان کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے بلکہ وردی سے اور اُن وردی والوں کے عظیم جذبے سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔اب کیپٹن یحییٰ کے لئے زندگی کا راستہ  اور بھی آسان ہو گیا تھا۔ 16مئی 2008 کو اپنے وطن کا یہ سپوت بہت سے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے نکل پڑا اور اس کا پہلا پڑاؤ کشمیر میں تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ سیالکوٹ آ گئے۔ کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں کیپٹن یحییٰ خُدا کی قدرت اور اُس کی کاریگری دیکھتے تو گھنٹوں گھر والوں کو اس کے بارے میں بتاتے۔ پھر چھ سات ماہ سیالکوٹ رہنے کے بعد وہ جنوبی وزیرستان (لدھا) چلے گئے۔ کیپٹن یحییٰ میں دوسرے فوجی افسروں کی طرح فوجی معاملات گھر میں بحث مباحثے میں لانے کی عادت نہ تھی۔ اس لئے وہ کبھی موسم وقت یا حالات کی سختیوں کا تذکرہ نہ کرتے۔ جب کیپٹن یحییٰ گھر آتے تو پورے گھرانے میں ایک زندگی کی رونق نظر آنے لگتی۔جب کبھی بہت بھوک لگتی تو بلند آواز میں کہتے اوئے ظالمو مجھے بھوک لگی ہے اور تم سب خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہو اور پھر والدہ اور بہنوں کے ساتھ باورچی خانے میں مدد کرنے لگ جاتے۔ اس طرح کیپٹن یحییٰ شہید کی معصوم اور محبت سے بھرپور ادائیں سب کے دلوں کو بہت اچھی لگتیں۔ وہ گھر کے لئے قمقموں کی ایسی لڑی تھے کہ ہر وقت روشنی کرتے اور پھولوں کی ایسی باڑ کہ اُن کے جانے کے بعد بھی گھر والوں کے دل اُن کی خوشبو سے معطر رہتے۔والدہ کے قدموں میں بیٹھ کر پاؤں دباتے اور کہتے آج تو آپ سے جنت لے کے جاؤں گا اور ماں اگر مذاق میں کہتیں ہائے میرا پاؤں آہستہ پکڑو تو کہتے اماں جنت نکال رہا ہوں آرام سے تو نہیں نکلے گی ناں۔ وزیرستان کے کیا حالات تھے گھر والوں کو خبر نہ تھی مگر وہاں رہنے کے بعد کیپٹن یحییٰ کی شخصیت میں سب سے بڑا فرق یہ آیا کہ جہاں اذان ہوتی سارے معاملات چھوڑ کر نماز پڑھتے وہ تہجد گزار ہو چکے تھے۔ گھر چھٹی پہ آتے تو رات کو اُٹھ کر خاموشی سے جائے نماز لے کر ڈرائنگ روم میں آجاتے اور اُن کی بڑی بہن نویدہ نے اُنہیں راتوں کو سجدہ میں اللہ کے حضور روتے ہوئے سُنا اور دیکھا مگر کبھی اُن سے پوچھنے کی ہمت نہ کہ یحییٰ تم اللہ سے گڑ گڑا کے کیا مانگتے ہو۔ نویدہ کا کہنا تھا کہ یہ یحییٰ اور اللہ کا معاملہ تھا۔ یحییٰ شہید کی شہادت کے بعد گھر والوں کو ایک ڈائری ملی جس میں اپنی وصیت لکھ کے گئے تھے۔۔۔۔۔اُنہوں نے لکھا تھا کہ میرا سوگ تین دن سے زیادہ نہ منانا۔ اگر میں زندہ نہ آیا تو میری ماں کو عمرہ ضرور کرانا۔ میری میت کے پاس کھڑے ہو کر (اگر کسی کو مجھ سے کبھی کوئی اذیت پہنچی ہو تو) سب مجھے معاف کر دیں۔ کیپٹن یحییٰ کی منگنی ہو چکی تھی۔ اپنی منگیتر فاطمہ کے لئے بھی اُنہوں نے ایک وصیت لکھی تھی کہ اگر میں زندہ نہ رہا تو فاطمہ شادی ضرور کرے اور اگر وہ میرے نکاح میں آ چکی ہو اور میں نہ رہوں تو بھی وہ دوسری شادی ضرور کرے۔ اُن کی وصیت سے لگتا تھا کہ جیسے وہ زندگی کی حقیقتوں سے مکمل طور پر آشنا تھے اور بعد کی زندگی کے مسائل پر بھی نگاہ رکھتے تھے۔ شہادت سے چند دن پہلے انہوں نے اپنی بہن کو شہادت پہ بنائی ہوئی ایک مووی دکھائی تو بہن رونے لگی اُس کا سر پیار سے اپنے کندھے سے لگا کر کہنے لگے پگلی میرے لئے دُعا مانگو تو شہادت کی مانگنا کہ اس کا بہت بڑا درجہ ہے اور یہ بڑی سعادت کی حامل ہے اور اگر میری شہادت کی خبر ملے تو وضو کر کے دو نفل شکرانے کے ضرور ادا کرنا۔ بہن نویدہ کی عادت تھی کہ اگر دن میں ایک بار وزیرستان سے یحییٰ کا فون نہ آتا تو فون ضرور کرتیں۔ ایک بار اُنہیں کہنے لگے آپی آپ کی ان فون کالز نے میرا نام Baby Soldier رکھوا دیا ہے۔ ہر افسر کی طرح اپنے جوانوں سے پیار کرتے اور کوئی شہید ہو جاتا تو والدین کے ساتھ اس کے گھر تعزیت کے لئے جاتے۔جنوری کی صبح وزیرستان میں برف پڑ رہی تھی تو کیپٹن یحییٰ کا فون آگیا۔۔۔بہن نے پوچھا آج میرے گڈے نے کیسے صبح صبح یاد کر لیا تمہارا وقت تو شام کا ہے تو کہنے لگے آج برفباری ہو رہی ہے فون بھی ٹھیک اور فارغ تھا تو میں نے سوچا اتنا پیارا موسم میں اپنی آپی کو اپنی آنکھوں سے دکھاؤں۔۔۔تو آپی نویدہ کو یحییٰ پہ بہت پیار آیا اور کہنے لگیں کہ تم مووی بنا لو میں ضرور دیکھوں گی۔۔۔پھر یحییٰ نے بتایا کہ آج ہم نے مچھلی بنوائی ہے خوب موسم کا مزہ لوٹیں گے۔۔۔اُس دن کیپٹن یحییٰ کی آواز میں بہت خوشی اور سکون تھا پھر کہنے لگے: بس آپی آٹھ دس دن تک یونٹ موو کر رہی ہے پھر میں سیالکوٹ آجاؤں گا۔ یہ آخری بات تھی جو یحییٰ نے اپنی آپی سے کہی۔۔۔رات کو ٹی وی پہ خبر چلنے لگی کہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور فوجی اہلکار شدید زخمی ہوئے۔۔۔نویدہ نے اپنے خاوند سے پوچھا کہ یحییٰ کہاں ہے۔ جنوبی وزیرستان یا شمالی تو انہوں نے فوری طور پر بتایا کہ شمالی وزیرستان میں تو نویدہ دُعائیں کرتی ہوئی سو گئیں۔ اُن کے دل کو دھڑکا سا لگ گیا کہ نہیں شاید وہ جنوبی وزیرستان ہی میں ہے۔ پھر دل کو تسلی دیتیں کہ نہیں نہیں اللہ سب خیر کرے گا۔۔۔۔اور پھر صُبح ایک فون کال آئی ۔۔۔۔ماں نے آواز دی بیٹا فون اُٹھاؤ میرے یحییٰ کی کل میرے سے بات نہیں ہوئی تھی ناں اس لئے اُس نے ہی صُبح صُبح دعائیں لینے کے لئے فون کیا ہو گا۔۔۔مگر قبولیت کا وقت تو دامن چھڑا کے جا چکا تھا۔۔۔ وہ کال تھی تو کیپٹن یحییٰ شہید کے نام کی مگر یحییٰ کی نہیں تھی۔لمحہ بھی نہ گزرا توکیپٹن یحییٰ شہید کے والد دھاڑیں مار کے رونے لگے۔ دل کے مریض تھے۔ منتوں سے مانگا ہوا بیٹا تھا۔ ابھی تو وردی میں انہوں نے اپنے جوان کو دل بھر کے دیکھا بھی نہ تھا اور ماں نے تو سہرا سجانے کی تیاری کر رکھی تھی۔ بہنیں اور بھائی اُس کے جانے کے بعد سے ہی اُس کے آنے کے منتظر ہوا کرتے تھے۔۔۔۔آج بھی اسی آس میں تھے کہ بس آٹھ دس دن کے بعد وہ لوٹ آئے گا مگر وہاں تو شہادت اور جنازے کی باتیں گونجنے لگیں۔ 8جنوری کو پوسٹ پہ حملہ ہوا تو اُن کے مقابلے کے لئے یحییٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے۔ کچھ دہشت گرد مارے گئے تو یحییٰ نے اگلی پوسٹ کے افسر کو پیغام دیا کہ کچھ ابھی وادی میں چھپے ہیں۔ اُدھر سے میں نکلتا ہوں اُدھر سے آپ آگے بڑھیں اور پھر جب یہ نکلے تو اُسی وادی کے جانور نما دہشت گردوں نے فائر کھول دیا۔ کیپٹن یحییٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ فائر اینڈ موو (Fire & Move) کرتے آگے بڑھے۔ جلد ہی وہ چند دہشت گردوں کے عقب میں جا پہنچے۔ کیپٹن یحییٰ نے تاک تاک کر نشانے لگانے شروع کئے۔ کچھ ہی لمحے میں چند دہشت گردجہنم واصل ہو گئے اور باقیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ کیپٹن یحییٰ کے ساتھیوں نے جب کمانڈر کی یہ بہادری اور مہارت دیکھی تو بھاگتے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ اسی طرح مقابلہ کرتے کرتے فوج کے یہ بہادر جوان دشمن کو پیچھے دھکیلتے گئے تاہم چند دشمن موقع کی تاک میں تھے۔جونہی کیپٹن یحییٰ ان کے نشانہ کی زد میں آئے تو انہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سینے پہ برسٹ لگا اور کئی گولیاں جسم کے پار ہو گئیں۔ اللہ اکبر کا نعرہ گونجا اور کیپٹن یحییٰ شہید ہو گئے۔ تاہم شہادت سے پہلے وہ اپنا مشن مکمل کر چکے تھے۔ دہشت گردوں کا حملہ ناکام ہو چکا تھا۔ گھر والوں نے بڑے فخر سے اُس لاڈلے گڈے کا استقبال کیا۔بہن نے وصیت کے مطابق وضو کر کے بلکتے ہوئے دو نفل شکرانے کے ادا کئے۔سوگ بھی تین دن ہی منایا مگر اب اُس گھر میں ہنسی کی آواز اُس طرح سے سنائی نہیں دیتی۔ سارے کردار موجود ہیں مگر کیپٹن یحییٰ شہید کی کمی اُن کے دلوں کا روگ بن گئی ہے۔ مگر آفرین ہے اُس بہن پر اور والدین پر جو آج بھی کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے جسموں پہ وردیاں سجتی رہیں گی اور شہادت کی دُعائیں بھی مانگی جاتی رہیں گی کہ زندگی ہے تو صرف وطن اور اسلام کے لئے اور فوج سے بہترین فریضۂ عشق کوئی ادا نہیں کرسکتا....#Military Berets#

No comments:

Post a Comment

The Dark and Deep Web

The Dark Web is a part of the World Wide Web that requires special software to access. Once inside, web sites and other services c...